بِک جائیں گے ہم، حسنِ خریدار اگر ہے
نمٹیں گے کوئی بر سرِ پیکار اگر ہے
کل اس سے ہمیشہ کو تِری جان چھٹے گی
اک رات کا مہمان ہے، بِیمار اگر ہے
بس ایک نظر دل کے صحیفے کی طرف دیکھ
پھر شوق سے کر جان تُو انکار اگر ہے
ہونٹوں کو بھلے جنبش الفاظ گِراں ہو
آنکھوں ہی سے کر ڈالیے اظہار اگر ہے
لو کل سے نئی سمت کا کرتے ہیں تعین
اے دوست بچھڑنے کا ہی اِصرار اگر ہے
ہم جس کے لیے عمر گنوا بیٹھے ہیں یارو
رکھ لے گا بھرم صاحبِ کردار اگر ہے
اے جانِ رشید اس کا سبب تم تو نہیں ہو
یہ خاک نشیں جان سے بیزار اگر ہے
رشید حسرت
No comments:
Post a Comment