جان پہچان سے ڈر لگتا ہے
عہد و پیمان سے ڈر لگتا ہے
اب کوئی نام محبت کا نہ لے
اب گریبان سے ڈر لگتا ہے
خود تو میں کب کا ہوا پتھر کا
دلِ نادان سے ڈر لگتا ہے
گو سمندر سے نکل آیا ہوں
پھر بھی طوفان سے ڈر لگتا ہے
آپ اپنے ہیں، سو میں ڈرتا ہوں
کس کو انجان سے ڈر لگتا ہے
جو نکلتا ہی نہیں، دل سے کبھی
ایسے مہمان سے ڈر لگتا ہے
روز لوٹ آتا ہے جو شام کو گھر
اس پشیمان سے ڈر لگتا ہے
جو اٹھاتا ہے تو میری قسمیں
میری کیا جان سے ڈر لگتا ہے
ہم کو آتی ہے منافع سازی
تیرے نقصان سے ڈر لگتا ہے
چلو جنگل کو ٹھکانہ کر لیں
مجھ کو انسان سے ڈر لگتا ہے
ہو قیامت یا محبت ابرک
ان کے امکان سے ڈر لگتا ہے
اتباف ابرک
No comments:
Post a Comment