Saturday, 10 October 2020

دیکھتے ہو جو روز خواب میں خواب

 دیکھتے ہو جو روز خواب میں خواب

ڈال دیں گے تمہیں عذاب میں خواب

خواب میں ماہتاب دیکھتے ہیں

کیسے دیکھیں گے ماہتاب میں خواب

ہم حقیقت پرست رندوں نے

گھول کر پی لیے شراب میں خواب

عکس دیکھو ذرا ستاروں کے

جیسے اترے ہوئے ہوں آب میں خواب

ان سے صرفِ نظر کروں کیسے

میری آنکھوں کے ہیں نصاب میں خواب

خواب میں اب شباب دیکھتے ہیں

دیکھتے تھے کبھی شباب میں خواب

ہر حقیقت سوال کا اس نے

مجھ کو بھیجا سدا جواب میں خواب

آپ پہنائیں ان کو تعبیریں

پیش ہیں آب کی جناب میں خواب


ناز خیالوی

No comments:

Post a Comment