دل میں کیا سوچ کے ماں باپ نے پالے بچے
اور حالات نے کس رنگ میں ڈھالے بچے
آپ کھولیں تو سہی ان پہ درِ رزقِ حلال
پھر نہ توڑیں گے کبھی رات کو تالے بچے
نور ماں باپ کی آنکھوں کا ہوا کرتے ہیں
ایک ہی بات ہے، گورے ہوں یا کالے بچے
گھر سے نکلے تھے کھلونوں کی خریداری کو
ہو گئے بردہ فروشوں کے حوالے بچے
میرے آنسو مِرے دامن کو بھگو دیتے ہیں
دیکھ کر کھاتے ہوئے خشک نوالے بچے
سسکیاں لیتی ہے عریانی مِرے بچوں کی
اوڑھ کر بنگلوں سے نکلیں جو دو شالے بچے
بات پریوں کی وہ سننے پہ بضد تھے، لیکن
کل کے وعدے پہ تھکے باپ نے ٹالے بچے
اہلِ دنیا ہی سے پیٹ اپنا بھرا دنیا نے
یہ وہ ناگن ہے جو بھوکی ہو تو کھا لے بچے
زندگی اپنی کبھی ناز لٹا بیٹھتے ہیں
گڈیاں ٹوٹی ہوئی لوٹنے والے بچے
ناز خیالوی
No comments:
Post a Comment