Saturday, 10 October 2020

دل میں کیا سوچ کے ماں باپ نے پالے بچے

 دل میں کیا سوچ کے ماں باپ نے پالے بچے

اور حالات نے کس رنگ میں ڈھالے بچے

آپ کھولیں تو سہی ان پہ درِ رزقِ حلال

پھر نہ توڑیں گے کبھی رات کو تالے بچے

نور ماں باپ کی آنکھوں کا ہوا کرتے ہیں

ایک ہی بات ہے، گورے ہوں یا کالے بچے

گھر سے نکلے تھے کھلونوں کی خریداری کو

ہو گئے بردہ فروشوں کے حوالے بچے

میرے آنسو مِرے دامن کو بھگو دیتے ہیں

دیکھ کر کھاتے ہوئے خشک نوالے بچے

سسکیاں لیتی ہے عریانی مِرے بچوں کی

اوڑھ کر بنگلوں سے نکلیں جو دو شالے بچے

بات پریوں کی وہ سننے پہ بضد تھے، لیکن

کل کے وعدے پہ تھکے باپ نے ٹالے بچے

اہلِ دنیا ہی سے پیٹ اپنا بھرا دنیا نے

یہ وہ ناگن ہے جو بھوکی ہو تو کھا لے بچے

زندگی اپنی کبھی ناز لٹا بیٹھتے ہیں

گڈیاں ٹوٹی ہوئی لوٹنے والے بچے


ناز خیالوی

No comments:

Post a Comment