Saturday, 10 October 2020

ہم اگر رد عمل اپنا دکھانے لگ جائیں

 ہم اگر رد عمل اپنا دکھانے لگ جائیں

ہر گھمنڈی کے یہاں ہوش ٹھکانے لگ جائیں

خاکساروں سے کہو ہوش میں آنے لگ جائیں

اس سے پہلے کہ وہ نظروں سے گرانے لگ جائیں

دیکھنا ہم کہیں پھولے نہ سمانے لگ جائیں

عندیہ جیسے ہی کچھ کچھ ترا پانے لگ جائیں

پھول چہرے یہ سر راہ ستارہ آنکھیں

شام ہوتے ہی تِرا نام سجھانے لگ جائیں

اپنی اوقات میں رہنا دل خوش فہم ذرا

وہ گزارش پہ تِری سر نہ کجھانے لگ جائیں

ہڈیاں باپ کی گودے سے ہوئی ہیں خالی

کم سے کم اب تو یہ بیٹے بھی کمانے لگ جائیں

ایک بل سے کہیں دو بار ڈسا ہے مومن

زخم خوردہ ہیں تو پھر زخم نہ کھانے لگ جائیں

دعوئ خوش سخنی خیرؔ ابھی زیب نہیں

چند غزلوں ہی پہ بغلیں نہ بجانے لگ جائیں


رؤف خیر

No comments:

Post a Comment