چہرے سے کب عیاں ہے مِرے اضطرار بھی
لیکن میں کر رہا ہوں تِرا انتظار بھی
شاید ہو دسترس تجھے اپنے وجود پر
مجھ کو تو اس نظر پہ نہیں اختیار بھی
ملنے لگے ہیں اب تو خوشی کے لباس میں
غمہائے زندگی کا ہے کوئی شمار بھی؟
ہو لاکھ خوبرو کوئی اپنے تئیں مگر
ہوتا ہے عکس و آئینے پر انحصار بھی
یکجا ہوئی ہیں حسن کی سب اس میں خوبیاں
چہرے پہ تازگی ہے نظر میں خمار بھی
لگتا ہے جان بوجھ کے ایسا کیا گیا
تُو نے بنائی چیز کوئی پائیدار بھی؟
محظوظ ہم بھی ہونگے جو فرصت کہیں ملے
گلشن بھی ہے، گلاب بھی، رنگِ بہار بھی
فخر عباس
No comments:
Post a Comment