Saturday, 10 October 2020

کوئی نہ دیکھے گونج ہوا کی

 کوئی نہ دیکھے گونج ہوا کی

نگراں ہے اک ذات خدا کی 

کھو گئیں چھوٹی چھوٹی اڑانیں 

پھیلتے شہروں میں چڑیا کی 

جتنے صحرا وہ سب میرے 

سونا ہے مٹی دنیا کی 

پہلے اپنی تہہ کو پا لے 

دیکھ روانی پھر دریا کی 

میں نے ان آنکھوں کی خاطر 

پھولوں جیسی ایک دعا کی

ان پتھریلی آنکھوں میں ہے 

اک چپ چپ تصویر وفا کی 

ذات سفر کے لاکھوں رستے 

آبلہ پائی مجھ تنہا کی 

دروازے کی اوٹ سے جھانکے 

یاد تمہاری شکل صبا کی 

غم اندر کا نم ہے خاور

باہر آنچ ہے تیز ہوا کی 


ایوب خاور

No comments:

Post a Comment