ایک پتہ
یہاں سے ذرا آگے چل کر
پھٹی سی دری پر
پرانا سا
اک آدمی سا ملے گا
ادھورا سا چہرہ ہے
اوندھا پڑا، ایک کاسہ سنبھالے
بھکاری ہے، پر مانگتا کچھ نہیں ہے
وہاں سے اگر دائیں مڑ جاؤ تو
دکانوں کی لمبی قطاریں ملیں گی
مہاجر ہیں سارے
وہ لکڑی کے کھوکھے دکانیں ہیں ان کی
دکانوں کے پیچھے ہی
انچوں میں کھینچے ہوئے ان کے گھر ہیں
یہ باہر سے آئے تھے، مسجد میں ہی آ کے بسنے لگے تھے
وہاں سے نکالے گئے ہیں
جو گھر ہے خدا کا
خدا کے ہاں اتنی جگہ ہی کہاں ہے
وگرنہ تو سارے جہاں کو پناہ دینی پڑ جائے اس کو
اچھا تو ہاں
وہ پتہ میں بتانے لگا تھا
اسی راستے پر، دکانوں سے آگے
وہ مسجد ملے گی
وہ ابن ثناء اللہ سید ولی خان کی مسجد
وہاں سے ذرا بائیں مڑتے ہی نو دس قدم پر
بڑا ڈھیر اک کوڑے کرکٹ کا تم کو نظر آئے گا
اور مڑنے سے پہلے ہی تم سونگھ لو گے
وہ گھٹتا تو ہے، اور ہر روز بڑھتا بھی ہے
وہ اب اس علاقے میں
پہچان کا اک نشاں بن گیا ہے
مگر اس جگہ تم کو رکنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
ذرا دیر سیدھے ہی چلتے چلو تم
کتابوں کا بازار آئے گا آگے
وہیں ایک زنگ آلود چھجے کے نیچے سے گزرو گے جب تم
اندھیری سے دائیں طرف اک گلی سی ملے گی
گلی بھی نہیں
اس لیے کہ وہاں کچھ غریبوں نے گھر سے بنائے ہوئے ہیں
وہ گھر بھی نہیں
اس لیے کہ وہاں کوئی دیوار یا کوئی کھڑکی نہیں
کوئی پردہ نہیں ہے
گزرتے ہوئے یوں لگے تم کو شاید
کسی سستے ناول کا
ننگا سا اک باب پڑھتے ہوئے چل رہے ہو
سنبھل کر نکلنا، پھسلنے کا ڈر ہے
کہ کھاتے پکاتے وہیں پر ہیں سارے
مگر اس سے بڑھ کر
یہ ڈر ہے کہیں تم
کسی زندہ مردے پہ پاؤں نہ رکھ دو
کہ اک مرتا ہے اور دو پیدا ہوتے ہیں روز اس گلی میں
گلی سے نکلتے ہی آنکھوں پہ جب ایک چھینٹا پڑے گا
چمکتی ہوئی دھوپ کا
تو ذرا دیر کچھ بھی دکھائی نہ دے گا
ذرا آنکھ مل کر
اگر پار دیکھو
تو اک چوک ہو گا
وہاں سے بہت پاس ہے وہ سڑک بھی
کہ جس پر تمہیں سارے، پی ایم، کے جی ایم، کے بنگلے ملیں گے
اسی شاہراہ پر
بہت آگے جا کر
ہوائی جہازوں کا اڈہ نیا بن رہا ہے
تمہیں کس سے ملنا تھا؟
لیکن نہیں، وہ نہیں جانتا میں
میں سمجھا کہ اپنے ہی گھر کا پتہ پوچھتے تم یہاں آ گئے ہو
گلزار
No comments:
Post a Comment