ایسا ہو گا کوئی نقصان کبھی سوچا تھا
وہ چلی جائے گی ملتان کبھی سوچا تھا
اپنے الفاظ کو بے کار سمجھنے والے
ان سے ہو گی تری پہچان کبھی سوچا تھا
تم تو خاموش سمندر کو تکا کرتے تھے
اس کے اندر کا وہ طوفان کبھی سوچا تھا
تم تو کہتے تھے محبت نہیں ہونے والی
زخم دل کا یہ مِری جان کبھی سوچا تھا
تم نے منزل بھی معین کبھی کی تھی اپنی
زیست کا کوئی بھی عنوان کبھی سوچا تھا
جس کو ہم دور سے بھی دیکھ نہیں سکتے تھے
بن کے آئے گا وہ مہمان کبھی سوچا تھا
اک وبا آئے گی اس طرح کی انسانوں پر
ملک ہو جائیں گے ویران کبھی سوچا تھا
ہاتھ ہم آ کے پکڑ لیں گے تمہارا اک دن
اپنی حیرت کا یہ سامان کبھی سوچا تھا
فخر عباس
No comments:
Post a Comment