Friday, 9 October 2020

ایسا ہو گا کوئی نقصان کبھی سوچا تھا

 ایسا ہو گا کوئی نقصان کبھی سوچا تھا

وہ چلی جائے گی ملتان کبھی سوچا تھا

اپنے الفاظ کو بے کار سمجھنے والے

ان سے ہو گی تری پہچان کبھی سوچا تھا

تم تو خاموش سمندر کو تکا کرتے تھے

اس کے اندر کا وہ طوفان کبھی سوچا تھا

تم تو کہتے تھے محبت نہیں ہونے والی

زخم دل کا یہ مِری جان کبھی سوچا تھا

تم نے منزل بھی معین کبھی کی تھی اپنی

زیست کا کوئی بھی عنوان کبھی سوچا تھا

جس کو ہم دور سے بھی دیکھ نہیں سکتے تھے

بن کے آئے گا وہ مہمان کبھی سوچا تھا 

اک وبا آئے گی اس طرح کی انسانوں پر

ملک ہو جائیں گے ویران کبھی سوچا تھا

ہاتھ ہم آ کے پکڑ لیں گے تمہارا اک دن

اپنی حیرت کا یہ سامان کبھی سوچا تھا


فخر عباس

No comments:

Post a Comment