Friday, 9 October 2020

یہ جو لاہور سے محبت ہے

 یہ جو لاہور سے محبت ہے

یہ کسی اور سے محبت ہے

اور وہ اور تم نہیں شاید

مجھ کو جس اور سے محبت ہے

یہ ہوں میں اور یہ مِری تصویر

دیکھ لے غور سے محبت ہے

بچپنا، کمسِنی، جوانی، آج

تیرے ہر دور سے محبت ہے

ایک تہذیب ہے مجھے مقصود

مجھ کو اک دور سے محبت ہے

اس کی ہر طرز مجھ کو بھاتی ہے

اس کے ہر طور سے محبت ہے​


فخر عباس

No comments:

Post a Comment