Friday, 9 October 2020

یہ جو تصویر سے محبت ہے

 یہ جو تصویر سے محبت ہے

دل کی جاگیر سے محبت ہے

خط کو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں

اس کی تحریر سے محبت ہے

عشق ہے قید کی صعوبت سے

طوق و زنجیر سے محبت ہے

خواب ہیں اس لیے عزیز مجھے

حسنِ تعبیر سے محبت ہے

شاعری کر رہا ہوں مدت سے

غم کی تشہیر سے محبت ہے

کیوں نہیں عاشقی میں پڑتا میں

اپنی توقیر سے محبت ہے

زخم پر زخم کھا لیے پھر بھی

آنکھ کے تیر سے محبت ہے


فخر عباس

No comments:

Post a Comment