یہ جو تصویر سے محبت ہے
دل کی جاگیر سے محبت ہے
خط کو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں
اس کی تحریر سے محبت ہے
عشق ہے قید کی صعوبت سے
طوق و زنجیر سے محبت ہے
خواب ہیں اس لیے عزیز مجھے
حسنِ تعبیر سے محبت ہے
شاعری کر رہا ہوں مدت سے
غم کی تشہیر سے محبت ہے
کیوں نہیں عاشقی میں پڑتا میں
اپنی توقیر سے محبت ہے
زخم پر زخم کھا لیے پھر بھی
آنکھ کے تیر سے محبت ہے
فخر عباس
No comments:
Post a Comment