Friday, 9 October 2020

عشق کا روگ پال کر رکھوں

 عشق کا روگ پال کر رکھوں

خود کو کتنا سنبھال کر رکھوں

آئینہ ہے، ضرور ٹوٹے گا 

لاکھ دل کو سنبھال کر رکھوں

میری فطرت نہیں بدل سکتی  

لاکھ سانچوں میں ڈھال کر رکھوں

تجھ کو احساس غم نہیں ہوتا

کیا میں سر کو اچھال کر رکھوں

میری چاہت کا کب یقیں ہو گا 

سامنے دل نکال کر رکھوں؟

میری نظروں سے دور جا اے دل

خون کب تک ابال کر رکھوں


دل سکندر پوری

3 comments:

  1. کمنت بھی دکھنا چائیے

    ReplyDelete
    Replies
    1. کمنٹ تو دکھ رہا ہے۔ اور کیسے دکھے۔
      دکھ رہا ہے تبھی تو جواب دے رہا ہوں۔

      Delete
  2. مین پیج پر کمنٹ نظر نہیں آئے گا، کمنٹ صرف غزل/نظم کو اوپن کرنے پر دکھتا ہے بشرطیکہ وہاں کمنٹ کیا گیا ہو۔

    ReplyDelete