عشق کا روگ پال کر رکھوں
خود کو کتنا سنبھال کر رکھوں
آئینہ ہے، ضرور ٹوٹے گا
لاکھ دل کو سنبھال کر رکھوں
میری فطرت نہیں بدل سکتی
لاکھ سانچوں میں ڈھال کر رکھوں
تجھ کو احساس غم نہیں ہوتا
کیا میں سر کو اچھال کر رکھوں
میری چاہت کا کب یقیں ہو گا
سامنے دل نکال کر رکھوں؟
میری نظروں سے دور جا اے دل
خون کب تک ابال کر رکھوں
دل سکندر پوری
کمنت بھی دکھنا چائیے
ReplyDeleteکمنٹ تو دکھ رہا ہے۔ اور کیسے دکھے۔
Deleteدکھ رہا ہے تبھی تو جواب دے رہا ہوں۔
مین پیج پر کمنٹ نظر نہیں آئے گا، کمنٹ صرف غزل/نظم کو اوپن کرنے پر دکھتا ہے بشرطیکہ وہاں کمنٹ کیا گیا ہو۔
ReplyDelete