اصل میں اس کا روپ چرانا ہوتا ہے
اس سے ملنا ایک بہانہ ہوتا ہے
لوگ رعایت کم دیتے ہیں لیکن یار
عشق میں عاقل بھی دیوانہ ہوتا ہے
میں بھی زخمی ہو کر گھر کو جاتا ہوں
میرا دل بھی روز نشانہ ہوتا ہے
اپنے ساتھ نہیں دے پاتے مشکل میں
بے گانہ تو پھر بے گانہ ہوتا ہے
'کیوں کہتا ہوں 'پاس نہ آنا میرے تم
مقصد اس کو پاس بلانا ہوتا ہے
فخر عباس
No comments:
Post a Comment