Monday, 12 October 2020

اصل میں اس کا روپ چرانا ہوتا ہے

 اصل میں اس کا روپ چرانا ہوتا ہے

اس سے ملنا ایک بہانہ ہوتا ہے

لوگ رعایت کم دیتے ہیں لیکن یار

عشق میں عاقل بھی دیوانہ ہوتا ہے

میں بھی زخمی ہو کر گھر کو جاتا ہوں

میرا دل بھی روز نشانہ ہوتا ہے

اپنے ساتھ نہیں دے پاتے مشکل میں

بے گانہ تو پھر بے گانہ ہوتا ہے

'کیوں کہتا ہوں 'پاس نہ آنا میرے تم

مقصد اس کو پاس بلانا ہوتا ہے


فخر عباس

No comments:

Post a Comment