شدید قرب سے مسحور کر دیا گیا تھا
میں دُور جانے پہ مجبور کر دیا گیا تھا
کسی کی ضد کا نتیجہ بھگت رہا ہوں میاں
مجھے کسی کے لیے "طُور" کر دیا گیا تھا
مجھے یہ رنج رہے گا کہ میرا حق مجھ کو
دیا گیا تھا مگر گُھور کر دیا گیا تھا
وہ یاد یاد ہی رہتی تو بھول بھی جاتا
مگر وہ زخم تو ناسور کر دیا گیا تھا
میں اُس کی لو کے تھرکنے پہ کانپتا تھا اسد
مجھے چراغ پہ مامُور کر دیا گیا تھا
خاور اسد
No comments:
Post a Comment