ایک دل ہے کتنے آزاروں کے بیچ
کس قدر تنہا ہوں میں یاروں کے بیچ
ہوتے ہوتے منقسم تھکنے لگی
اک کہانی اتنے کرداروں کے بیچ
میں عزیزاں! ہوں شہیدِ وصلِ اُو
میں نہیں ہوں ہجر کے ماروں کے بیچ
وہ بہت پیارا لگے ہنستا ہوا
دو گڑھے پڑتے ہیں رخساروں کے بیچ
وہ تو بوسہ دے کے رخصت ہو گیا
رہ گئی ہے آنچ انگاروں کے بیچ
ڈھونڈتے ہیں رہ رسائی کی کوئی
ہم گھِرے تیرے نگہداروں کے بیچ
یہ زمینِ میر ہے خاور اسد
گل کھِلے جاتے ہیں جو خاروں کے بیچ
خاور اسد
No comments:
Post a Comment