Monday, 12 October 2020

ایک دل ہے کتنے آزاروں کے بیچ

 ایک دل ہے کتنے آزاروں کے بیچ

کس قدر تنہا ہوں میں یاروں کے بیچ

ہوتے ہوتے منقسم تھکنے لگی

اک کہانی اتنے کرداروں کے بیچ

میں عزیزاں! ہوں شہیدِ وصلِ اُو

میں نہیں ہوں ہجر کے ماروں کے بیچ

وہ بہت پیارا لگے ہنستا ہوا

دو گڑھے پڑتے ہیں رخساروں کے بیچ

وہ تو بوسہ دے کے رخصت ہو گیا

رہ گئی ہے آنچ انگاروں کے بیچ

ڈھونڈتے ہیں رہ رسائی کی کوئی

ہم گھِرے تیرے نگہداروں کے بیچ

یہ زمینِ میر ہے خاور اسد

گل کھِلے جاتے ہیں جو خاروں کے بیچ


خاور اسد

No comments:

Post a Comment