Monday, 12 October 2020

چالیس برس تک چلتا ہے اک روشن دور جوانی کا

 چالیس برس تک چلتا ہے اک روشن دور جوانی کا

پھر اگلے کوس پہ آ جاتا ہے اک منظر حیرانی کا

وہ قصہ پیار محبت کا کس ذوق سے کہتا جاتا ہے

میں شوق سے سنتا جاتا ہوں پر اگلا موڑ کہانی کا

تم کتنے بند بناؤ گے؟ ٹوٹے گا ضبط کا ہر پُشتہ

سب درد بہا لے جائے گا سیلابی ریلا پانی کا

ہر شام خیال کے آنگن میں اک یاد کا پھول نکھرتا ہے

تا دیر مہکتا رہتا ہے پھر پودا رات کی رانی کا


سلمان باسط

No comments:

Post a Comment