میں تھا مصروف ابھی خونِ جگر پینے میں
پھر مسیحا نے چھرا گھونپ دیا سینے میں
ایسے لگتا ہے مِری سانسیں بہت قیمتی ہیں
مشکلیں اتنی جو حائل ہیں مِرے جینے میں
کیا منافع سے سروکار ہو ہم کو کہ جہاں
اپنا نقصان بھی آتا نہیں تخمینے میں
کیسی تہذیب کے وارث ہیں یہ اہلِ مغرب
پھر سے یک جاں ہیں مسلماں کا لہو پینے میں
ایسے لگتا ہے کہ آئے ہیں کسی پستی سے
جن کو افلاک نظر آنے لگے زینے میں
سعد اللہ شاہ
No comments:
Post a Comment