Monday, 12 October 2020

کب تلک یوں دھوپ چھاؤں کا تماشا دیکھنا

 کب تلک یوں دھوپ چھاؤں کا تماشا دیکھنا

دھوپ میں پھرنا گھنے پیڑوں کا سایا دیکھنا

ساتھ اس کے کوئی منظر کوئی پس منظر نہ ہو

اس طرح میں چاہتا ہوں اس کو تنہا دیکھنا

رات اپنے دیدۂ گریاں کا نظارہ کیا

کس سے پوچھیں خواب میں کیسا ہے دریا دیکھنا

اس گھڑی کچھ سوجھنے دے گی نہ یہ پاگل ہوا

اک ذرا آندھی گزر جائے تو حلیہ دیکھنا

کھل کے رو لینے کی فرصت پھر نہ اس کو مل سکی

آج پھر انور ہنسے گا بے تحاشا دیکھنا


انور مسعود

No comments:

Post a Comment