Monday, 12 October 2020

تم کیا جانو ساون بھادوں

 تم کیا جانو ساون بھادوں

کس کے آنسو ہوتے ہیں

کچھ تیری آنکھوں سے لے کر

کچھ میری آنکھوں سے لے کر

کچھ قرضہ پچھلی بارش کا

کچھ سود ملا ہے لوگوں سے

کچھ درد سمیٹا لوگوں کا

اور لوگوں پر ہی روتے ہیں

تمہیں کچھ یاد ہے جاناں

کہ پچھلی رات کے غم نے

مجھے کتنا رلایا ہے

میں نیندیں ڈھونڈنے والی

میں کم کم سوچنے والی

مجھے کس نے ستایا ہے

مجھے کس نے جگایا ہے

تمہیں کچھ یاد ہے جاناں

میری بے نام تحریریں

میرے پاؤں کی زنجیریں

کسی غم کی نشانی ہے

محبت کی کہانی ہے

محبت میں خرابی ہے

ذرا سی بے حسابی ہے

ذرا سی بے حسابی میں

کہاں میں ہوں

کہاں تم ہو

کہاں گم ہو

کہاں گم ہو


خلیل الرحمان قمر

No comments:

Post a Comment