تم کیا جانو ساون بھادوں
کس کے آنسو ہوتے ہیں
کچھ تیری آنکھوں سے لے کر
کچھ میری آنکھوں سے لے کر
کچھ قرضہ پچھلی بارش کا
کچھ سود ملا ہے لوگوں سے
کچھ درد سمیٹا لوگوں کا
اور لوگوں پر ہی روتے ہیں
تمہیں کچھ یاد ہے جاناں
کہ پچھلی رات کے غم نے
مجھے کتنا رلایا ہے
میں نیندیں ڈھونڈنے والی
میں کم کم سوچنے والی
مجھے کس نے ستایا ہے
مجھے کس نے جگایا ہے
تمہیں کچھ یاد ہے جاناں
میری بے نام تحریریں
میرے پاؤں کی زنجیریں
کسی غم کی نشانی ہے
محبت کی کہانی ہے
محبت میں خرابی ہے
ذرا سی بے حسابی ہے
ذرا سی بے حسابی میں
کہاں میں ہوں
کہاں تم ہو
کہاں گم ہو
کہاں گم ہو
خلیل الرحمان قمر
No comments:
Post a Comment