Monday, 12 October 2020

یہ خواب جلی آنکھیں

 یہ خواب جلی آنکھیں

یہ سہمی ہوئی پلکیں

آنسو ہے کہ شعلہ ہے

دل ہے کہ دِیا ہے

اک زہر محبت ہے

تم نے بھی پیا ہو گا

ہم نے بھی پیا ہے

ہم پیاس کے ماروں نے

بارش کی ہتھیلی سے

اک بوند نہیں مانگی

اشکوں کو جلایا ہے

ہونٹوں کو سِیا ہے

دل ہے کہ دِیا ہے


خلیل الرحمان قمر

No comments:

Post a Comment