یہ خواب جلی آنکھیں
یہ سہمی ہوئی پلکیں
آنسو ہے کہ شعلہ ہے
دل ہے کہ دِیا ہے
اک زہر محبت ہے
تم نے بھی پیا ہو گا
ہم نے بھی پیا ہے
ہم پیاس کے ماروں نے
بارش کی ہتھیلی سے
اک بوند نہیں مانگی
اشکوں کو جلایا ہے
ہونٹوں کو سِیا ہے
دل ہے کہ دِیا ہے
خلیل الرحمان قمر
No comments:
Post a Comment