Tuesday, 13 October 2020

ایک وحشت تو کبھی ڈر کی طرح لگتا ہے

 ایک وحشت، تو کبھی ڈر کی طرح لگتا ہے

مجھ کو صحرا بھی میرے گھر کی طرح لگتا ہے

روز پیتا ہوں، مگر موت نہیں آتی ہے

تیرا غم تو مجھے کوثر کی طرح لگتا ہے

موم جس جس کو سمجھتے رہے ہم صدیوں سے

آج ہر شخص وہ پتھر کی طرح لگتا ہے

تیری دستار سلامت ہے بتا پھر کیسے 

تیرا سر بھی تو میرے سر کی طرح لگتا ہے

کانپ جاتی ہے میری روح بہت روتا ہوں 

یاد آنا تیرا نشتر کی طرح لگتا ہے

بہتے پانی پہ نظر جس کی ٹکی رہتی 

اس کو دریا بھی سمندر کی طرح لگتا ہے

چپکے چپکے میری غزلوں کو پڑھا کرتے ہیں

میرا لہجہ جنہیں خنجر کی طرح لگتا ہے

دل جو کہتا ہے وہی کام کیا کرتا ہوں 

ذہن میرا مجھے نوکر کی طرح لگتا ہے

عشق میں چوٹ جو کھائے ہیں انہیں کا چہرہ 

زخم کھائے ہوئے لشکر کی طرح لگتا ہے


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment