مل کر جو مجھ سے شاد ہو، ملتی رہا کرو
اچھے دنوں کی یاد ہو، ملتی رہا کرو
غم سے بھرے ہوئے مِرے دل میں کبھی کبھی
خوشیوں کا انعقاد ہو، ملتی رہا کرو
تازہ غزل کے شعر بھی تخلیق ہو سکیں
آساں یہ اقتصاد ہو، ملتی رہا کرو
جس پر مِرے کلام کا دار و مدار ہے
تم ہی تو میری داد ہو، ملتی رہا کرو
مانا یہ روز روز کا ملنا نہیں ہے ٹھیک
ملتی دنوں کے بعد ہو، ملتی رہا کرو
پرچم وفا کا کس طرح رکھنا ہے سر بلند
مل کر یہ اجتہاد ہو، ملتی رہا کرو
ماضی کی بے یقینیاں بدلیں یقین میں
رشتوں پہ اعتماد ہو، ملتی رہا کرو
کل کا پتہ نہیں تو کیا اگلے برس کی بات
برپا نہ تب فساد ہو ملتی رہا کرو
فخر عباس
No comments:
Post a Comment