بٹ گئی باپ کی دستار، دعا کیجیے گا
ہو گئی صحن میں دیوار، دعا کیجیے گا
میں نے اس بار بڑی آس لگائی ہوئی ہے
پھر سے ہو جائے نہ انکار، دعا کیجیے گا
وہ جو کشتی ابھی طوفان سے الجھی ہوئی ہے
اس میں میرے بھی ہیں کچھ یار، دعا کیجیے گا
اس طرف لوگ ہیں دیوار کو ڈھانے پہ مصر
میں ہوں دیوار کے اس پار، دعا کیجیے گا
مدتوں بعد اسد موج میں ہے رقص کناں
بر سرِ کوچۂ دلدار، دعا کیجیے گا
خاور اسد
No comments:
Post a Comment