Sunday, 11 October 2020

محنتیں یوں ٹھکانے لگتی ہیں

 محنتیں یوں ٹھکانے لگتی ہیں

آندھیاں پھل گرانے لگتی ہیں

ابر کے ساتھ یہ مصیبت ہے

بجلیاں گھر جلانے لگتی ہیں

اس لیے یار کم بناتا ہوں

یاریاں آزمانے لگتی ہیں

کھیل ہی کھیل میں بہت پہلے

لڑکیاں گھر بسانے لگتی ہیں

عمر ڈھل جائے تو جوانی کی

مستیاں یاد آنے لگتی ہیں

آپ کو دیکھتے ہی جانے کیوں

خواہشیں سر اٹھانے لگتی ہیں


فخر عباس

No comments:

Post a Comment