محنتیں یوں ٹھکانے لگتی ہیں
آندھیاں پھل گرانے لگتی ہیں
ابر کے ساتھ یہ مصیبت ہے
بجلیاں گھر جلانے لگتی ہیں
اس لیے یار کم بناتا ہوں
یاریاں آزمانے لگتی ہیں
کھیل ہی کھیل میں بہت پہلے
لڑکیاں گھر بسانے لگتی ہیں
عمر ڈھل جائے تو جوانی کی
مستیاں یاد آنے لگتی ہیں
آپ کو دیکھتے ہی جانے کیوں
خواہشیں سر اٹھانے لگتی ہیں
فخر عباس
No comments:
Post a Comment