ہمیں کچھ بلاؤں نے گھیرا ہوا ہے
کچھ ان کی اداؤں نے گھیرا ہوا ہے
بظاہر تو کچھ رابطہ بھی نہیں ہے
مگر کچھ جفاؤں نے گھیرا ہوا ہے
یہ جاں سے گزرنا بھی مشکل نہیں تھا
مگر کچھ وفاؤں نے گھیرا ہوا ہے
یہ سادہ دلی بھی ہے اک جرم شاید
یہ کیسی سزاؤں نے گھیرا ہوا ہے
ستم گر کا ہر وار خالی گیا ہے
ہمیں کچھ دعاؤں نے گھیرا ہوا ہے
نیلما درانی
No comments:
Post a Comment