Sunday, 11 October 2020

ہمیں کچھ بلاؤں نے گھیرا ہوا ہے

 ہمیں کچھ بلاؤں نے گھیرا ہوا ہے

کچھ ان کی اداؤں نے گھیرا ہوا ہے

بظاہر تو کچھ رابطہ بھی نہیں ہے

مگر کچھ جفاؤں نے گھیرا ہوا ہے

یہ جاں سے گزرنا بھی مشکل نہیں تھا

مگر کچھ وفاؤں نے گھیرا ہوا ہے

یہ سادہ دلی بھی ہے اک جرم شاید

یہ کیسی سزاؤں نے گھیرا ہوا ہے

ستم گر کا ہر وار خالی گیا ہے

ہمیں کچھ دعاؤں نے گھیرا ہوا ہے


نیلما درانی

No comments:

Post a Comment