Sunday, 11 October 2020

اک اسی کو دھیاں نہیں ہوتا

 اک اسی کو دھیاں نہیں ہوتا

جس کے بن یہ جہاں نہیں ہوتا

اس محبت میں یہ خرابی ہے

جو جہاں ہے وہاں نہیں ہوتا

ڈھونڈئیے گا کہاں کہاں اس کو

جانے والا کہاں نہیں ہوتا

آگ ایسی کہ راکھ راکھ بدن

ظرف اتنا، دھواں نہیں ہوتا

جانے کیا بھیڑ ہے مِرے اندر

لہو تک اب رواں نہیں ہوتا

کچھ بھی کر لیجئے مگر بندہ

آپ سے بد گماں نہیں ہوتا

صرف ہم تب تلک نبھائیں گے

جاں کا جب تک زیاں نہیں ہوتا

در و دیوار سے لپٹتے ہیں

جب کوئی راز داں نہیں ہوتا

تم پہ گزری ہے تم کہو ابرک

ہم سے آگے بیاں نہیں ہوتا


اتباف ابرک

No comments:

Post a Comment