Sunday, 11 October 2020

آدمیت کی لاش پر تنہا میں ہوں برسوں سے

 آدمیت کی لاش پر تنہا

میں ہوں برسوں سے نوحہ گر تنہا

خود نمائی کی وہ وبا پھیلی

پھر رہا ہے بشر بشر تنہا

سازشیں ناخدا بھی کرتے ہیں

یونہی بدنام ہے بھنور تنہا

سب نے مل کر شجر کو سینچا ہے

کیوں کوئی کھائے گا ثمر تنہا

اجڑے دل میں گئے دنوں کی یاد

جیسے جنگل میں گوئی گھر تنہا

میں نے کھائے ہیں یاس کے پتھر

آرزوؤں کے موڑ پر تنہا

جنگ لڑتا رہا رعونت سے

میں وفا کا پیامبر تنہا

اے غمِ دوستی نہ چھوڑ مجھے

اس طرح سے نہ مجھ کو کر تنہا

کوئی پروانہ اب نہیں آتا

شمع جلتی ہے رات بھر تنہا

ناز اہلِ وفا کا ہے فقدان

کیسے کاٹو گے یہ سفر تنہا


ناز خیالوی

No comments:

Post a Comment