Sunday, 11 October 2020

لہریں پڑیں تو سویا ہوا جل مچل گیا

 لہریں پڑیں تو سویا ہوا جل مچل گیا

پربت کو چیرتا ہوا دریا نکل گیا

رنگوں کے امتزاج میں پوشیدہ آگ تھی

دیکھا تھا میں نے چھو کے مِرا ہاتھ جل گیا

اکثر پہاڑ سر پہ گرے اور چپ رہے

یوں بھی ہوا کہ پتّہ ہلا، دل دہل گیا

پہچانتے تو ہو گے ندا فاضلی کو تم؟

سورج کو کھیل سمجھا تھا، چھوتے ہی جل گیا


ندا فاضلی

No comments:

Post a Comment