Sunday, 11 October 2020

کتنا اچھا تھا کہ یہ راز نہ کھولے جاتے

 کتنا اچھا تھا کہ یہ راز نہ کھولے جاتے

لفظ پہلے کسی میزان میں تولے جاتے

گھر کے اندر ہی چھپا کر اسے رکھنا ہوگا

ایسے ہیرے نہیں بازار میں رولے جاتے

ایک وہ ہے کہ نہیں بات ہی سنتا کوئی

ایک ہم ہیں کہ لگا تار ہیں بولے جاتے

اب تو ہم سانس بھی آلوں کی مدد سے لیں گے

زہر ہی زہر ہواؤں میں نہ گھولے جاتے

ہم بھی حیرت سے انہیں دیکھ رہے ہیں صاحب

بن پیے بزم میں جو لوگ ہیں ڈولے جاتے

آبلے پاؤں کے ہوتے تو کوئی فکر نہ تھی

جاتے جاتے ہیں میاں دل کے پھپھولے جاتے

کس لیے لوگ دکھی ہیں انہیں پوچھا جاتا

کاش جیبوں کی طرح دل بھی ٹٹولے جاتے


فخر عباس

No comments:

Post a Comment