کتنا اچھا تھا کہ یہ راز نہ کھولے جاتے
لفظ پہلے کسی میزان میں تولے جاتے
گھر کے اندر ہی چھپا کر اسے رکھنا ہوگا
ایسے ہیرے نہیں بازار میں رولے جاتے
ایک وہ ہے کہ نہیں بات ہی سنتا کوئی
ایک ہم ہیں کہ لگا تار ہیں بولے جاتے
اب تو ہم سانس بھی آلوں کی مدد سے لیں گے
زہر ہی زہر ہواؤں میں نہ گھولے جاتے
ہم بھی حیرت سے انہیں دیکھ رہے ہیں صاحب
بن پیے بزم میں جو لوگ ہیں ڈولے جاتے
آبلے پاؤں کے ہوتے تو کوئی فکر نہ تھی
جاتے جاتے ہیں میاں دل کے پھپھولے جاتے
کس لیے لوگ دکھی ہیں انہیں پوچھا جاتا
کاش جیبوں کی طرح دل بھی ٹٹولے جاتے
فخر عباس
No comments:
Post a Comment