یہ سوچ سوچ کے وحشت سی ہو رہی ہے مجھے
کہ پھر کسی سے محبت سی ہو رہی ہے مجھے
گزشتہ عہد کی رسوائیوں کا بوجھ لیے
نئی رُتوں سے ندامت سی ہو رہی ہے مجھے
جو ہو سکے تو مجھے یاد ہی نہ آیا کرو
تمہاری یاد کی عادت سی ہو رہی ہے مجھے
وہ ایک بات جو دل میں چھپا کے رکھی ہے
میں کیا کہوں کہ قباحت سی ہو رہی ہے مجھے
یہ کیا کِیا کہ نہ رکھا لحاظِ ہم سفری
تِرے سلوک پہ حیرت سی ہو رہی ہے مجھے
تِرے نہ ہونے کا غم شاد باد رکھتا ہے
نشاطِ غم پہ خجالت سی ہو رہی ہے مجھے
جاوید صبا
No comments:
Post a Comment