Sunday, 11 October 2020

یہ سوچ سوچ کے وحشت سی ہو رہی ہے مجھے

 یہ سوچ سوچ کے وحشت سی ہو رہی ہے مجھے

کہ پھر کسی سے محبت سی ہو رہی ہے مجھے

گزشتہ عہد کی رسوائیوں کا بوجھ لیے

نئی رُتوں سے ندامت سی ہو رہی ہے مجھے

جو ہو سکے تو مجھے یاد ہی نہ آیا کرو

تمہاری یاد کی عادت سی ہو رہی ہے مجھے

وہ ایک بات جو دل میں چھپا کے رکھی ہے

میں کیا کہوں کہ قباحت سی ہو رہی ہے مجھے

یہ کیا کِیا کہ نہ رکھا لحاظِ ہم سفری

تِرے سلوک پہ حیرت سی ہو رہی ہے مجھے

تِرے نہ ہونے کا غم شاد باد رکھتا ہے

نشاطِ غم پہ خجالت سی ہو رہی ہے مجھے


جاوید صبا

No comments:

Post a Comment