کوئی کھلی فضا میں نہ نغمہ سرا ہوا
دیکھا ہر اک پرندہ شجر پر ڈرا ہوا
دل چاہتا ہے پھر وہی برگ و ثمر کی رُت
لیکن جو پیڑ سُوکھ گیا، کب ہرا ہوا
کیسے جیا میں جگ میں مِری داستاں نہ پوچھ
جیسے دِیا🪔 ہوا کے مقابل دھرا ہوا
اک روز چھوٹ جائے گا سانسوں کا ساتھ بھی
اک روز ٹوٹ جائے گا ساغر بھرا ہوا
تعبیر، مجھ کو ڈر ہے کہ الٹی نہ ہو امیر
دیکھا ہے میں نے خواب میں خود کو مَرا ہوا
رؤف امیر
No comments:
Post a Comment