Sunday, 11 October 2020

کوئی کھلی فضا میں نہ نغمہ سرا ہوا

 کوئی کھلی فضا میں نہ نغمہ سرا ہوا

دیکھا ہر اک پرندہ شجر پر ڈرا ہوا

دل چاہتا ہے پھر وہی برگ و ثمر کی رُت

لیکن جو پیڑ سُوکھ گیا، کب ہرا ہوا

کیسے جیا میں جگ میں مِری داستاں نہ پوچھ

جیسے دِیا🪔 ہوا کے مقابل دھرا ہوا

اک روز چھوٹ جائے گا سانسوں کا ساتھ بھی

اک روز ٹوٹ جائے گا ساغر بھرا ہوا

تعبیر، مجھ کو ڈر ہے کہ الٹی نہ ہو امیر

دیکھا ہے میں نے خواب میں خود کو مَرا ہوا


رؤف امیر

No comments:

Post a Comment