Sunday, 11 October 2020

جو سچ کہوں تو زیادہ ملال تھا بھی نہیں

 جو سچ کہوں تو زیادہ ملال تھا بھی نہیں

یہ سال تیری جدائی کا سال تھا بھی نہیں

جو مل گیا ہے وہ اعزاز کم نہیں ہے مجھے

جو چھن گیا ہے وہ میرا کمال تھا بھی نہیں

ہوا ہے ختم مکمل تو اب سکون سے ہوں

کئی دنوں سے تعلق بحال تھا بھی نہیں

کسی کی پرسشِ لب سے گلاب ہوتا گیا

وہ زخم جس کا کوئی اندمال تھا بھی نہیں


خاور اسد

No comments:

Post a Comment