جو سچ کہوں تو زیادہ ملال تھا بھی نہیں
یہ سال تیری جدائی کا سال تھا بھی نہیں
جو مل گیا ہے وہ اعزاز کم نہیں ہے مجھے
جو چھن گیا ہے وہ میرا کمال تھا بھی نہیں
ہوا ہے ختم مکمل تو اب سکون سے ہوں
کئی دنوں سے تعلق بحال تھا بھی نہیں
کسی کی پرسشِ لب سے گلاب ہوتا گیا
وہ زخم جس کا کوئی اندمال تھا بھی نہیں
خاور اسد
No comments:
Post a Comment