Tuesday, 5 July 2022

دیوانہ پن اور بے کاری ملتی ہے

 دیوانہ پن اور بے کاری ملتی ہے

عشق میں اکثر ایسی خواری ملتی ہے

لوگ پتہ ہے کیوں اتنے دیوانے ہیں

اک ماڈل سے شکل تمہاری ملتی ہے

کبھی کبھی تو شعر بھی ہونے لگتے ہیں

دل کی چوٹ سے خوش گفتاری ملتی ہے

لائف نہیں ہے بیڈ آف روزز یاد رکھو

رستہ چلتے سو دشواری ملتی ہے

اور کسی سے ملتی ہے وہ شاموں کو

جس لڑکی سے سوچ ہماری ملتی ہے

اس کے ناز اٹھانے کو ہم بیٹھے ہیں

دیکھیے کب یہ ذمے داری ملتی ہے

اچھے رشتے کب ملتے ہیں لڑکوں کے

کس کو نوکری اب سرکاری ملتی ہے


فخر عباس

No comments:

Post a Comment