Tuesday, 5 July 2022

دکھا ہے ایک چہرہ اوٹ میں سے

 دکھا ہے ایک چہرہ اوٹ میں سے

کھرا پایا ہے ہم نے کھوٹ میں سے

تم اپنے ہاتھ کا دو زخم کوئی

سو پُھوٹے روشنی اس چوٹ میں سے

خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں

چلا ہے گھوٹ کوئی گوٹ میں سے

سمجھ آئی نہیں ناکامیابی

کِیا تھا حل تو پرچہ نوٹ میں سے

نہِیں لے جا سکے گا، فکر چھوڑو

کوئی دشمن تمہیں باہوٹ میں سے

گماں تھا ہم کو اس میں نیکیاں ہیں

نکل آئے گُنہ پر پوٹ میں سے

بڑے ہی شوق سے حصہ لیا تھا

نکل آیا ہے کیا جن ووٹ میں سے

وہ دن گاؤں کے یاد آتے ہیں اکثر

غریبی جھانکتی لنگوٹ میں سے

چِھڑا جب شاعروں کا ذکر حسرت

تمہارا نام ہو گا کوٹ میں سے


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment