Friday, 4 March 2022

سائے کی طرح نہ خود سے رم کر

 سائے کی طرح نہ خود سے رم کر

دیوار کو اپنا ہم قدم کر

اپنے ہی لیے بہا نہ دریا

اوروں کے لیے بھی آنکھ نم کر

تکمیل طلب نہیں ہے منزل

طے راہِ وفا قدم قدم کر

اے پچھلی رُتوں کو رونے والے

آنے والے دنوں کا غم کر

ممکن ہو تو تیشۂ ہنر سے

ہر پارۂ سنگ کو صنم کر

ہے چشم براہ ایک دنیا

پتھر کی طرح نہ بیٹھ جم کر

یہ راہ جنوں ہے اس میں پیارے

ممکن ہو تو احتیاط کم کر

اے قصر جہاں یہ تیرا معمار

تو ہاتھ فراز کے قلم کر


احمد فراز

No comments:

Post a Comment