سائے کی طرح نہ خود سے رم کر
دیوار کو اپنا ہم قدم کر
اپنے ہی لیے بہا نہ دریا
اوروں کے لیے بھی آنکھ نم کر
تکمیل طلب نہیں ہے منزل
طے راہِ وفا قدم قدم کر
اے پچھلی رُتوں کو رونے والے
آنے والے دنوں کا غم کر
ممکن ہو تو تیشۂ ہنر سے
ہر پارۂ سنگ کو صنم کر
ہے چشم براہ ایک دنیا
پتھر کی طرح نہ بیٹھ جم کر
یہ راہ جنوں ہے اس میں پیارے
ممکن ہو تو احتیاط کم کر
اے قصر جہاں یہ تیرا معمار
تو ہاتھ فراز کے قلم کر
احمد فراز
No comments:
Post a Comment