اپنی مٹھی میں بند کر کے مجھے
لے گیا وہ پسند کر کے مجھے
ہاتھ اس نے وفا سے کھینچ لیا
خواہشوں میں دو چند کر کے مجھے
معترض اب وہ میری طنز پہ ہے
سر بسر زہر خند کر کے مجھے
کھل گئی عشق دوستی اس کی
خوش ہے وہ دردمند کر کے مجھے
کر دئیے بند مجھ پہ دروازے
آشنائے کمند کر کے مجھے
گِر گیا جانے خود وہ کیوں اتنا
آسماں تک بلند کر کے مجھے
اب وہ آنسو چھڑک رہا ہے قتیل
مثلِ شعلہ بلند کر کے مجھے
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment