Friday, 8 April 2022

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

 اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

جن میں وفورِ رنج سے

کچھ دیر کو تیرے لیے

آنسو اگر لہرا گئے

یہ چند لمحوں کی چمک

جو تجھ کو پاگل کر گئی

ان جگنوؤں کے نور سے

چمکی ہے کب وہ زندگی

جس کے مقدر میں رہی

صبحِ طلب سے تیرگی

کس سوچ میں گم سم ہے تو

اے بے خبر ناداں نہ بن

تیری فسردہ روح کو

چاہت کے کانٹوں کی طلب

اور اس کے دامن میں فقط

ہمدردیوں کے پھول ہیں


احمد فراز

No comments:

Post a Comment