Friday, 8 April 2022

رنگ تھا روشنی تھا قامت تھا

 رنگ تھا، روشنی تھا، قامت تھا

ہم جس پہ مر مٹے، قیامت تھا

خوش جمالوں میں دھوم تھی اپنی

نام اس کا بھی، وجہِ شہرت تھا

ہم بھی تکرار کے نہ تھے خُوگر

وہ بھی نا آشنائے حُجت تھا

خواب تعبیر بن کے آتے تھے

کیا عجب موسمِ رفاقت تھا

اپنے لہجے کا بانکپن سارا

اس کے پندار کی امانت تھا

اس کے کندن بدن کا رُوپ سروپ

حسنِ احساس کی بدولت تھا

ایک ایک سانس قربتوں کا گواہ

ہر نفس لمحہ غنیمت تھا

اور پھر یوں ہوا کہ ٹوٹ گیا

وہ جو اک رشتۂ محبت تھا


افتخار عارف

No comments:

Post a Comment