پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
ہم تِرا شہر چھوڑ جائیں گے
دور افتادہ بستیوں میں کہیں
تیری یادوں سے لو لگائیں گے
شمع ماہ و نجوم گل کر کے
آنسوؤں کے دِیے جلائیں گے
آخری بار اک غزل سن لو
آخری بار ہم سنائیں گے
صورت موجۂ ہوا جالب
ساری دنیا کی خاک اڑائیں گ
حبیب جالب
No comments:
Post a Comment