Friday, 8 April 2022

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے

 پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے 

ہم تِرا شہر چھوڑ جائیں گے 

دور افتادہ بستیوں میں کہیں 

تیری یادوں سے لو لگائیں گے 

شمع ماہ و نجوم گل کر کے 

آنسوؤں کے دِیے جلائیں گے 

آخری بار اک غزل سن لو 

آخری بار ہم سنائیں گے 

صورت موجۂ ہوا جالب

ساری دنیا کی خاک اڑائیں گ

 

حبیب جالب

No comments:

Post a Comment