Wednesday, 9 December 2020

تیرے ناکام کام کر رہے ہیں

 تیرے ناکام کام کر رہے ہیں

صبح سے شام شام کر رہے ہیں

جانتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو گا

صرف حُجت تمام کر رہے ہیں

بولتے ہیں کِواڑ کے قبضے

ایسے، جیسے کلام کر رہے ہیں

صرف گھر سے نہیں نکلتے بس

ورنہ کیا کچھ عوام کر رہے ہیں

عشق نے کب کِیا ہے منع ہمیں

ہم تو دنیا کے کام کر رہے ہیں

ایسا لگتا ہے دور دیس میں ہم

کُوچ کے دن قیام کر رہے ہیں

جون صاحِب خفا نہ ہوں عاصم

یہ زمیں اپنے نام کر رہے ہیں


لیاقت علی عاصم

No comments:

Post a Comment