تیرے ناکام کام کر رہے ہیں
صبح سے شام شام کر رہے ہیں
جانتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو گا
صرف حُجت تمام کر رہے ہیں
بولتے ہیں کِواڑ کے قبضے
ایسے، جیسے کلام کر رہے ہیں
صرف گھر سے نہیں نکلتے بس
ورنہ کیا کچھ عوام کر رہے ہیں
عشق نے کب کِیا ہے منع ہمیں
ہم تو دنیا کے کام کر رہے ہیں
ایسا لگتا ہے دور دیس میں ہم
کُوچ کے دن قیام کر رہے ہیں
جون صاحِب خفا نہ ہوں عاصم
یہ زمیں اپنے نام کر رہے ہیں
لیاقت علی عاصم
No comments:
Post a Comment