Wednesday, 9 December 2020

وہ تو نہ مل سکے ہمیں تنہائیاں ملیں

 وہ تو نہ مل سکے ہمیں تنہائیاں ملیں

لیکن ہمارے نام کو رسوائیاں ملیں

بانہوں میں ان کی رہ کے سوچا ہے بارہا

بانہوں میں ان کی رہ کے بھی تنہائیاں ملیں

اپنے ہی آپ سے پھر میری گفتگو رہی

اپنے ہی آپ سے یوں جب رہائیاں ملیں

اس کے حریم ناز سے میرے حریم شوق تک

اک روزن دیوار سے اس کی انگڑائیاں ملیں

اچھا ہوا کہ وہ بھی اب باوفا نہیں رہے

ہم کو بھی وفا کے نام پہ رسوائیاں ملیں


سیماب میر

No comments:

Post a Comment