وہ تو نہ مل سکے ہمیں تنہائیاں ملیں
لیکن ہمارے نام کو رسوائیاں ملیں
بانہوں میں ان کی رہ کے سوچا ہے بارہا
بانہوں میں ان کی رہ کے بھی تنہائیاں ملیں
اپنے ہی آپ سے پھر میری گفتگو رہی
اپنے ہی آپ سے یوں جب رہائیاں ملیں
اس کے حریم ناز سے میرے حریم شوق تک
اک روزن دیوار سے اس کی انگڑائیاں ملیں
اچھا ہوا کہ وہ بھی اب باوفا نہیں رہے
ہم کو بھی وفا کے نام پہ رسوائیاں ملیں
سیماب میر
No comments:
Post a Comment