کوئی دیوار ہے نہ در کوئی
جا کے پھوڑے کہاں پہ سر کوئی
پوچھتا ہی نہیں کوئی ان سے
ہم کو الزام دے ہے ہر کوئی
سایۂ زلفِ یار کی دھن میں
کر گیا دھوپ میں بسر کوئی
اِک پرندہ🕊 نہ شام کو لوٹا
منتظر رہ گیا شجر🌳 کوئی
حالِ دل ہو بیاں تسلسل سے
کیا پتہ لے لے کب اثر کوئی
حکم اوپر سے اب یہ آیا ہے
کاٹ دو گر جھکے نہ سر کوئی
چاند بدلی میں چھپ گیا شاہیں
ڈُھونڈتی رہ گئی نظر کوئی
شاہین بیگ
No comments:
Post a Comment