Tuesday, 8 December 2020

کوئی دیوار ہے نہ در کوئی

 کوئی دیوار ہے نہ در کوئی

جا کے پھوڑے کہاں پہ سر کوئی

پوچھتا ہی نہیں کوئی ان سے

ہم کو الزام دے ہے ہر کوئی

سایۂ زلفِ یار کی دھن میں

کر گیا دھوپ میں بسر کوئی

اِک پرندہ🕊 نہ شام کو لوٹا

منتظر رہ گیا شجر🌳 کوئی

حالِ دل ہو بیاں تسلسل سے

کیا پتہ لے لے کب اثر کوئی

حکم اوپر سے اب یہ آیا ہے

کاٹ دو گر جھکے نہ سر کوئی

چاند بدلی میں چھپ گیا شاہیں

ڈُھونڈتی رہ گئی نظر کوئی


شاہین بیگ

No comments:

Post a Comment