جذبوں میں بانکپن وہ حرارت نہیں رہی
وہ پہلے پہل جیسی محبت نہیں رہی
غفلت شعار، تیرا کرم اب نہیں قبول
بس، تیری مہربانی کی عادت نہیں رہی
رستے بہت ہیں آنے کے، آتی نہیں خبر
شاید اب ان کو میری وہ عادت نہیں رہی
ساون میں اب کے سال بہت پُرسکوں رہا
دل میں گئے برس سی وہ وحشت نہیں رہی
یہ عشق و عاشقی بڑی فرصت کے کھیل ہیں
ہم کو تو سر کھجانے کی فرصت نہیں رہی
دل جیسے پگھل جاتا تھا جن کے کلام سے
اب جاں گداز ان کی حکایت نہیں رہی
دل ہم نے صاف کر لیا پر وہ نہ کر سکے
لگتا نہیں کہ ان کو کدورت نہیں رہی
دامن بچا کے رہنے لگے ہیں بھلے نصیب
اچھے دنوں کی ہم کو بھی عادت نہیں رہی
عشق و جنون، الفت و دیوانگی بھی چھوڑ
جب اس حدودِ اربعہ سے رغبت نہیں رہی
کچھ جذبے حسن و عشق سے ماوراء بھی ہیں
لوگوں کو ان سے جانے کیوں نِسبت نہیں رہی
دل میں وہ بس چکے ہیں کچھ اس طرح جبیں
اب ہجر میں بھی ان سے تو فرقت نہیں رہی
مہ جبین عثمان
No comments:
Post a Comment