Tuesday, 8 December 2020

دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں بدل جاتا ہے وقت

 چلتے چلتے دفعتاً اِک چال چل جاتا ہے وقت

دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں بدل جاتا ہے وقت

سچ ہی کہتے ہیں سدا وقت ایک سا رہتا نہیں

برف کی صورت بہرصورت پگھل جاتا ہے وقت

قُربتیں اور دوریاں سب وقت کا اعجاز ہیں

صورتِ مہمان آج آتا ہے کل جاتا ہے وقت

وقت کو پابند کرنا کب کسی کے بس میں ہے

خود ہی رک جاتا ہے تھم جاتا ہے ٹل جاتا ہے وقت

زندگی بھر وہ کفِ افسوس ملتا رہ گیا

جب کسی ناداں کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے وقت

گاہے گاہے وقت پر بھی وقت آتا ہے کڑا

کوئی دیتا ہے سنبھالا اور سنبھل جاتا ہے وقت

وقت ہی کا دوسرا رخ ہے مکافاتِ عمل

جب میاں تنویر دُوجا رخ بدل جاتا ہے وقت


تنویر قادری

No comments:

Post a Comment