زندگی سے مِلی سوغات یہ تنہائی کی
خواب ٹُوٹے ہیں کئی آنکھ میں صحرائی کی
کیوں سرِ بزم مِری اس نے پذیرائی کی
اس میں سازش تو نہیں پھر سے مِرے بھائی کی
برق منظر سے نگاہوں کی بصارت چھینے
فکر دشمن کو مِرے ہے مِری بینائی کی
لوگ چہرے پہ اُداسی کا سبب پوچھیں گے
کیا کہوں گا کہ مجھے فکر ہے رُسوائی کی
لوگ باہر سے سمجھتے ہیں بہت خوش ہوں میں
کیا خبر ان کو مِرے زخم کی گہرائی کی
میں بھی آؤں گا تجھے دینے مبارکبادی
جب بھی آواز سُنوں گا تِری شہنائی کی
چھین کر منہ سے غریبوں کے نوالے شمسی
حاکمِ وقت نے کیا خوب مسیحائی کی
ہدایت اللہ شمسی
No comments:
Post a Comment