Thursday, 10 December 2020

آنکھ بھی پتھر سانس بھی پتھر

 پتھر


آنکھ بھی پتھر سانس بھی پتھر

پتھر سی ہے دل کی دھڑکن

سوز صدائیں ساز بھی پتھر

اور میری آواز بھی پتھر

لفظ، قلم، قرطاس بھی پتھر

آہ بھی پتھر، واہ بھی پتھر

سنگریزے ہوں کرنیں جیسے

یوں چبھتے ہیں

پتھر کے نیزے ہوں جیسے

پھول بھی کانوں میں لگتے ہیں

پتھر کے آویزے جیسے

بارش بھی پتھراؤ ہو جیسے 

ہر قطرہ اک گھاؤ ہو جیسے

رشتے ناطے سب پتھریلے

رشتوں کا احساس بھی پتھر

پتھریلی سی گھر کی فضا ہے

دستک، آہٹ، چاپ بھی پتھر

ہر پتھر کے پیچھے کیا ہے

اک پتھریلی انا ہے


گلزیب زیبا

No comments:

Post a Comment