Thursday, 10 December 2020

لباس یا کفن کبھی نہ کہنا لباس ہو تم کفن ہو تم

 بڑی محبت سے پاس بیٹھا

بڑے لگاؤ سے ہاتھ تھاما

اسے بتایا

خدا کی روشن کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے

یہ دیکھ میرا لباس ہے تُو

ترا لباسِ بدن بھی میں ہوں

تُنک کے بولی

لباس ہوں نا

اتار سکتے ہو، دوسرا بھی خرید لو گے

تمہارا حق ہے

مگر مرا مسئلہ ذرا تم سے مختلف ہے

تمہاری ہستی کفن بنا کے

میں اپنی روح و بدن پہ اوڑھے

یقیں کی راہوں پہ گامزن ہوں

تمہی کو اوڑھا ہے اِس جہاں میں

تمہی کو لے کر لحد میں اتروں گی

اور اگلے جہان میں بھی تمہاری ہونے پہ

رب تعالیٰ کا شکریہ میں ادا کروں گی

لباس کہنے پہ کتنے خوش ہو

مری طرح سے مجھے تم اپنا کفن بنا کے

مرے لیے ساری دنیا تج کے

نہ رہ سکو گے

تمہاری خاطر میں جس طرح انتہا پسند اور خود غرض ہوں

تمہیں تو شاید گماں نہیں ہے

فنا کیا میں نے خود کو تم میں

کبھی نہ کہنا لباس ہو تم

کفن ہو تم

اور میں اس نفی میں، اسی فنا میں

بس اپنی تکمیل دیکھتی ہوں


شہزاد واثق

No comments:

Post a Comment