بڑی محبت سے پاس بیٹھا
بڑے لگاؤ سے ہاتھ تھاما
اسے بتایا
خدا کی روشن کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے
یہ دیکھ میرا لباس ہے تُو
ترا لباسِ بدن بھی میں ہوں
تُنک کے بولی
لباس ہوں نا
اتار سکتے ہو، دوسرا بھی خرید لو گے
تمہارا حق ہے
مگر مرا مسئلہ ذرا تم سے مختلف ہے
تمہاری ہستی کفن بنا کے
میں اپنی روح و بدن پہ اوڑھے
یقیں کی راہوں پہ گامزن ہوں
تمہی کو اوڑھا ہے اِس جہاں میں
تمہی کو لے کر لحد میں اتروں گی
اور اگلے جہان میں بھی تمہاری ہونے پہ
رب تعالیٰ کا شکریہ میں ادا کروں گی
لباس کہنے پہ کتنے خوش ہو
مری طرح سے مجھے تم اپنا کفن بنا کے
مرے لیے ساری دنیا تج کے
نہ رہ سکو گے
تمہاری خاطر میں جس طرح انتہا پسند اور خود غرض ہوں
تمہیں تو شاید گماں نہیں ہے
فنا کیا میں نے خود کو تم میں
کبھی نہ کہنا لباس ہو تم
کفن ہو تم
اور میں اس نفی میں، اسی فنا میں
بس اپنی تکمیل دیکھتی ہوں
شہزاد واثق
No comments:
Post a Comment