نہ کوئی پھول🎕 نہ کوئی ستارا ہو گا یہاں
یہی خوشی ہے، سبھی کا خسارا ہو گا یہاں
یہاں رہے گی اداسی اور اس میں اک میرا دل
یہاں پہ جھیل بنے گی،۔ کنارا ہو گا یہاں
پھر ایک روز کسی خواب میں ملیں گے ہم
پھر ایک روز یہ منظر دوبارا ہو گا یہاں
یہ دل ہے دوست! کوئی قتل گاہ تھوڑی ہے
یہ تیغ🗡 نیچے کرو، پھر گزارا ہو گا یہاں
بھٹک رہے ہیں بہت دیر سے، زمیں پہ سبھی
پھر ایک روز فلک سے اشارا ہو گا یہاں
کفیل رانا
No comments:
Post a Comment