آٹھ مرلے کا گھر
روشنی سے بھرے پورچ میں
کیسے ہنستے ہوئے سامنے آئی ہو
دل میں جتنے اندھیرے
اترتے رہے سارا دن
سارے تحلیل ہونے لگے
میں اڑھائی قدم میں زمیں روندتا
کوہِ جودی سے ہوتا ہوا
گھر میں داخل ہوا
گھر کے چھوٹے سے باغیچے کو
کتنے روشن ستاروں نے فوکس کیا
اک بڑے شہر میں
ایک چھوٹا سا مٹی کا ٹکڑا چمکنے لگا
میں نے دیکھا تھا
لاؤنج خالی تھا
پر میرا گھر کتنا لبریز تھا
مومیایا ہوا سامنے آ گیا
یہ زمانہ
جو تلوار کی دھار سے تیز تھا
تازہ تر خوشبوؤں نے مجھے گھیرے میں لے لیا
ایک مہکار سے گھر مہکنے لگا
آٹھ مرلے کا گھر
جس میں سونے کے دو کمرے ہیں
جس میں کھانے کی چھوٹی سی اک میز ہے
ساری دنیاؤں پر یک بیک چھا گیا
کیسی اٹھی ہے اوپر زمیں
کیسے نیچے ستاروں بھرا آسماں آ گیا
اقتدار جاوید
No comments:
Post a Comment